چین میں حوالہ جاتی ترجیحات اور خطرے و منافع کا تبادلہ
خلاصہ
یہ مطالعہ چین میں حوالہ جاتی ترجیحات اور حصص کے منافع پر سابقہ تحقیق کو دہراتا ہے، اور سرمایہ کاروں کے غیر حقیقی منافع یا نقصان کے متبادل پیمانے کے طور پر کیپیٹل گینز اوورہینگ (CGO) استعمال کرتا ہے۔ یہ دیکھتا ہے کہ CGO پانچ خطرے کے پیمانوں سے کیسے تعامل کرتا ہے: مارکیٹ بیٹا، منافع کا اتار چڑھاؤ، مخصوص اتار چڑھاؤ، کمپنی کی عمر اور نقد بہاؤ کا اتار چڑھاؤ۔ بیان کردہ نمونے میں 1995 سے 2024 تک کے چینی حصص شامل ہیں، اور تجزیہ مقطعی منافع کا مطالعہ کرنے کے لیے تابع دوہری درجہ بندی اور فاما-میک بیتھ ریگریشنز استعمال کرتا ہے۔
رپورٹ شدہ نتائج کے مطابق، زیادہ CGO والی کمپنیوں میں خطرے اور منافع کا مثبت تعلق کمزور یا غائب ہے، جبکہ کم CGO والی کمپنیوں میں یہ تعلق زیادہ مضبوط ہے۔ چین میں CGO اور خطرے کے پیمانوں کے تعاملات زیادہ تر منفی ہیں، جو امریکہ کے لیے رپورٹ کردہ مثبت اثرات سے مختلف ہیں۔ مصنفین اس فرق کی تشریح چین میں خوردہ سرمایہ کاروں کی شرکت، قیاسی سرگرمی اور ضابطہ جاتی تناظر کی روشنی میں کرتے ہیں، اور تجویز دیتے ہیں کہ وہاں حوالہ جاتی نکات کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ یہ ایک مخصوص مارکیٹ اور مدت کے لیے تکراری تحقیق کے نتائج ہیں؛ اقتباس تفصیلی اندازے یا مضبوطی کے ٹیسٹ نہیں دیتا اور خبردار کرتا ہے کہ اس نمونے کو دوسری مارکیٹوں پر لاگو نہ سمجھا جائے۔
اہم خیالات
- چینی حصص میں سرمایہ کاروں کے غیر حقیقی منافع اور نقصانات کے متبادل پیمانے کے طور پر CGO استعمال کیا گیا ہے۔
- مطالعہ CGO کو بیٹا، منافع کے اتار چڑھاؤ، مخصوص اتار چڑھاؤ، کمپنی کی عمر اور نقد بہاؤ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ جانچتا ہے۔
- رپورٹ شدہ نتائج کے مطابق، زیادہ CGO والی کمپنیوں میں خطرے اور منافع کا مثبت تعلق کم CGO والی کمپنیوں کے مقابلے میں کمزور ہے۔
- چین میں CGO کے خطرے کے پیمانوں سے تعاملات زیادہ تر منفی ہیں، جو امریکہ کے رپورٹ کردہ نتائج سے مختلف ہیں۔
- مصنفین کے مطابق مارکیٹ کی ساخت اور سرمایہ کاروں کا رویہ مختلف مارکیٹوں میں حوالہ جاتی انحصار کے اظہار پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ٹیگز
مکمل متن
# Replication of Reference-Dependent Preferences and the Risk-Return Trade-Off in the Chinese Market # Replication of Reference-Dependent Preferences and the Risk-Return Trade-Off in the Chinese Market This study replicates the findings of Wang et al. (2017) on reference-dependent preferences and their impact on the risk-return trade-off in the Chinese stock market, a unique context characterized by high retail investor participation, speculative trading behavior, and regulatory complexities. Capital Gains Overhang (CGO), a proxy for unrealized gains or losses, is employed to explore how behavioral biases shape cross-sectional stock returns in an emerging market setting. Utilizing data from 1995 to 2024 and econometric techniques such as Dependent Double Sorting and Fama-MacBeth regressions, this research investigates the interaction between CGO and five risk proxies: Beta, Return Volatility (RETVOL), Idiosyncratic Volatility (IVOL), Firm Age (AGE), and Cash Flow Volatility (CFVOL). Key findings reveal a weaker or absent positive risk-return relationship among high-CGO firms and stronger positive relationships among low-CGO firms, diverging from U.S. market results, and the interaction effects between CGO and risk proxies, significant and positive in the U.S., are predominantly negative in the Chinese market, reflecting structural and behavioral differences, such as speculative trading and diminished reliance on reference points. The results suggest that reference-dependent preferences play a less pronounced role in the Chinese market, emphasizing the need for tailored investment strategies in emerging economies.
ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0
یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔