مواد پر جائیں
لائبریری کی تمام دستاویزات

الگ بلاک چینز میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کا سراغ

مضمون arXiv papers · مصنف: Haaroon Yousaf et al.

خلاصہ

یہ مقالہ پوچھتا ہے کہ کیا الگ بلاک چین لیجرز میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کو آپس میں جوڑا جا سکتا ہے، اور یوں ایک ہی کرنسی کے اندر سرگرمی کا سراغ لگانے کے مطالعے کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس کی توجہ ان ایکسچینج خدمات پر ہے جو ایک کرپٹو کرنسی کو دوسری میں تبدیل کرتی ہیں، جس سے بصورتِ دیگر الگ لین دین کی تاریخوں کے درمیان رابطہ بن سکتا ہے۔ یہ کام مختلف لیجرز کے روابط شناخت کرنے کے لیے قیاسی اصول بناتا اور کرنسیوں کے مابین تبادلے کی سرگرمی کے نمونوں کا جائزہ لیتا ہے۔

اس کے شواہد میں تیرہ ماہ کے دوران شیپ شفٹ سے جمع کیا گیا سرگرمی کا ڈیٹا اور آٹھ بلاک چینز کی معلومات شامل ہیں۔ مصنفین ان ڈیٹا سے پلیٹ فارم کے استعمال کا مطالعہ کرتے اور دیکھتے ہیں کہ آیا یہ خدمات مجرمانہ سرگرمی یا منافع کمانے کے رویے سے وابستہ ہیں۔ فراہم کردہ بیان میں روابط قائم کرنے کے مخصوص اصول، ناپے گئے نمونے یا صارفین کی شناخت اور محرکات سے متعلق نتائج نہیں بتائے گئے۔ بلاک چین پر نظر آنے والی معلومات بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتیں کہ کسی پتے کو کون کنٹرول کرتا ہے، اس لیے اخذ کردہ روابط اور ارادوں کی تشریحات کو غیر یقینی سمجھنا چاہیے۔

اہم خیالات

  • کرنسیوں کے درمیان تبادلے کی خدمات الگ بلاک چین لیجرز میں رقوم کا سراغ لگانے کا راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔
  • مطالعہ کرپٹو کرنسی کے لین دین کے ریکارڈز میں روابط قائم کرنے کے قیاسی اصول بناتا ہے۔
  • اس کا تجزیہ تیرہ ماہ کے عرصے میں شیپ شفٹ کی سرگرمی اور آٹھ بلاک چینز کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔
  • تحقیق ایکسچینج کے نمونوں اور پلیٹ فارم کے استعمال کا جائزہ لیتی ہے، جن میں ممکنہ مجرمانہ یا منافع پر مبنی محرکات بھی شامل ہیں۔

ٹیگز

مکمل متن
# Tracing Transactions Across Cryptocurrency Ledgers


# Tracing Transactions Across Cryptocurrency Ledgers









One of the defining features of a cryptocurrency is that its ledger, containing all transactions that have evertaken place, is globally visible. As one consequenceof this degree of transparency, a long line of recent re-search has demonstrated that even in cryptocurrenciesthat are specifically designed to improve anonymity it is often possible to track money as it changes hands,and in some cases to de-anonymize users entirely. With the recent proliferation of alternative cryptocurrencies, however, it becomes relevant to ask not only whether ornot money can be traced as it moves within the ledgerof a single cryptocurrency, but if it can in fact be tracedas it moves across ledgers. This is especially pertinent given the rise in popularity of automated trading platforms such as ShapeShift, which make it effortless to carry out such cross-currency trades. In this paper, weuse data scraped from ShapeShift over a thirteen-monthperiod and the data from eight different blockchains to explore this question. Beyond developing new heuristics and creating new types of links across cryptocurrency ledgers, we also identify various patterns of cross-currency trades and of the general usage of these platforms, with the ultimate goal of understanding whetherthey serve a criminal or a profit-driven agenda.

ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0

یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔