مواد پر جائیں
لائبریری کی تمام دستاویزات

معلوماتی تناسب مومینٹم میں ڈرفٹ اور خود ارتباط ظاہر کرتے ہیں

مضمون arXiv papers · مصنف: Fernando F. Ferreira et al.

خلاصہ

یہ مطالعہ معلوماتی تناسب (تغیر کے مقابلے میں اوسط منافع) سے جانچتا ہے کہ پورٹ فولیو کی تاریخی ڈیٹا دیکھنے کی مدت کے ساتھ مومینٹم کی کارکردگی کیسے بدلتی ہے۔ یہ مومینٹم کے دو ممکنہ ذرائع، یعنی مثبت منافع کا خود ارتباط اور اوسط منافع میں ڈرفٹ، کے تحت نظریاتی معلوماتی تناسب اخذ کرتا ہے۔ تجزیہ بتاتا ہے کہ چند ماہ کی مختصر تاریخی مدتیں خود ارتباط سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جبکہ ایک سال کے قریب مدت میں ڈرفٹ ظاہر ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

مصنفین تاریخی ڈیٹا کو مستحکم ادوار میں تقسیم کرکے ان نظریاتی نمونوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض ادوار، خصوصاً 1975 سے پہلے، خود ارتباط زیادہ اہم ہے، جبکہ بعد کے کئی ادوار میں ڈرفٹ زیادہ وضاحت کرتا ہے۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج کے ایک صدی سے زائد ڈیٹا پر اسٹریٹیجی لاگو کرکے وہ کئی سال کی سابقہ مدتوں میں معلوماتی تناسب کے مدھم اتار چڑھاؤ بھی رپورٹ کرتے ہیں، جنہیں وہ اوسط شرحِ نمو کی طرف واپسی کے طور پر ماڈل کرتے ہیں۔ نتائج تاریخی تعلقات اور نظریاتی طریقۂ کار بیان کرتے ہیں؛ یہ ثابت نہیں کرتے کہ مستقبل کی مارکیٹوں میں کوئی ایک سابقہ مدت بہتر کارکردگی دکھائے گی یا نفاذ کی لاگت کو ملحوظ رکھتے ہیں۔

اہم خیالات

  • معلوماتی تناسب تاریخی ڈیٹا دیکھنے کی مدت کی طوالت اور مومینٹم پیدا کرنے والے طریقۂ کار کے ساتھ بدلتا ہے۔
  • مختصر تاریخی مدتیں منافع کے خود ارتباط کو ظاہر کر سکتی ہیں، جبکہ ایک سال کے قریب طویل مدتیں اوسط منافع میں ڈرفٹ کی عکاسی کر سکتی ہیں۔
  • تاریخی ادوار میں خود ارتباط اور ڈرفٹ کی نسبتی اہمیت مختلف ہوتی ہے۔
  • ڈاؤ جونز کے طویل مدتی ڈیٹا میں معلوماتی تناسب کے مدھم اتار چڑھاؤ دکھائی دیتے ہیں، جنہیں مصنفین اوسط نمو کی طرف واپسی کے طور پر ماڈل کرتے ہیں۔

ٹیگز

مکمل متن
# Information ratio analysis of momentum strategies


# Information ratio analysis of momentum strategies









In the past 20 years, momentum or trend following strategies have become an established part of the investor toolbox. We introduce a new way of analyzing momentum strategies by looking at the information ratio (IR, average return divided by standard deviation). We calculate the theoretical IR of a momentum strategy, and show that if momentum is mainly due to the positive autocorrelation in returns, IR as a function of the portfolio formation period (look-back) is very different from momentum due to the drift (average return). The IR shows that for look-back periods of a few months, the investor is more likely to tap into autocorrelation. However, for look-back periods closer to 1 year, the investor is more likely to tap into the drift. We compare the historical data to the theoretical IR by constructing stationary periods. The empirical study finds that there are periods/regimes where the autocorrelation is more important than the drift in explaining the IR (particularly pre-1975) and others where the drift is more important (mostly after 1975). We conclude our study by applying our momentum strategy to 100 plus years of the Dow-Jones Industrial Average. We report damped oscillations on the IR for look-back periods of several years and model such oscilations as a reversal to the mean growth rate.

ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0

یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔