مواد پر جائیں
لائبریری کی تمام دستاویزات

کوریج اور لیکویڈیٹی کی پابندیوں میں کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ پیئرز کی بہتری

مضمون arXiv papers · مصنف: Di Zhang et al.

خلاصہ

یہ دستاویز ایکسچینج پر کوٹ پیئرز کے انتخاب کو بہتری کے مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے: ایکسچینجز کو تمام کرنسیوں کا احاطہ کرتے ہوئے زیادہ لیکویڈ پیئرز کو ترجیح دینی اور عملیاتی پیچیدگی محدود رکھنی ہوتی ہے۔ چونکہ زیادہ تر ممکنہ پیئرز کے حجم مشاہدے میں نہیں آتے، مجوزہ طریقہ پہلے ریگولرائزڈ، ٹرنکیٹڈ ایجین ویلیو ڈی کمپوزیشن سے گم شدہ قدروں کا تخمینہ لگاتا ہے۔ پھر ہیورسٹک رہنمائی اور پروننگ کے ساتھ برانچ اینڈ باؤنڈ تلاش کے ذریعے پیئرز منتخب کرتا ہے، اس شرط کے تحت کہ ہر کرنسی قابلِ تجارت رہے۔

رپورٹ کردہ تجربات سے اشارہ ملتا ہے کہ زیادہ ڈینومینیشن کرنسیوں کی اجازت دینے سے ایسا کم مرکزیت والا نیٹ ورک بن سکتا ہے جس کا محور بڑی کرنسیوں کے درمیان براہِ راست روابط ہوں۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایکسچینج کی پیئر فہرستوں میں بہتری کی گنجائش ہے، خاص طور پر جب چھوٹے کوائنز کو کوٹ کرنسی چنا جائے یا بڑھتے ہوئے کوائنز کو بروقت شامل نہ کیا جائے۔ دستاویز خبردار کرتی ہے کہ مختصر فہرستیں کوریج گھٹاتی ہیں، جبکہ بہت بڑی فہرستوں کے لیے مارکیٹ میں بار بار ردوبدل درکار ہوتا ہے۔ یہاں ڈیٹاسیٹس، پیرامیٹرز کے انتخاب یا بہتری کے مقداری حجم کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے نتائج کو ایک فریم ورک اور معیاری نتائج سمجھیں، ہر ایکسچینج کے لیے پیئر فہرست کی آفاقی ہدایت نہیں۔

اہم خیالات

  • پیئرز کے انتخاب میں ٹریڈنگ حجم، کرنسیوں کی کوریج اور مارکیٹس برقرار رکھنے کی لاگت میں توازن ضروری ہے۔
  • بہت سے ممکنہ پیئرز کے حجم براہِ راست دستیاب نہیں، اس لیے بہتری سے پہلے گم شدہ قدروں کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔
  • تخمینہ لگانے کا مرحلہ ریگولرائزڈ، ٹرنکیٹڈ ایجین ویلیو ڈی کمپوزیشن استعمال کرتا ہے۔
  • کنیکٹیویٹی کی پابندی یقینی بناتی ہے کہ منتخب ٹریڈنگ پیئرز کے ذریعے ہر کرنسی تک رسائی ممکن رہے۔
  • ہیورسٹکس اور پروننگ کے ساتھ برانچ اینڈ باؤنڈ تلاش ممکنہ پیئر سیٹس کی شناخت کرتی ہے۔
  • بہت کم پیئرز کوریج گھٹاتے ہیں، جبکہ بہت زیادہ پیئرز مارکیٹ برقرار رکھنے کا بوجھ بڑھاتے ہیں۔

ٹیگز

مکمل متن
# Optimal Settings for Cryptocurrency Trading Pairs


# Optimal Settings for Cryptocurrency Trading Pairs









The goal of cryptocurrencies is decentralization. In principle, all currencies have equal status. Unlike traditional stock markets, there is no default currency of denomination (fiat), thus the trading pairs can be set freely. However, it is impractical to set up a trading market between every two currencies. In order to control management costs and ensure sufficient liquidity, we must give priority to covering those large-volume trading pairs and ensure that all coins are reachable. We note that this is an optimization problem. Its particularity lies in: 1) the trading volume between most (>99.5%) possible trading pairs cannot be directly observed. 2) It satisfies the connectivity constraint, that is, all currencies are guaranteed to be tradable. To solve this problem, we use a two-stage process: 1) Fill in missing values based on a regularized, truncated eigenvalue decomposition, where the regularization term is used to control what extent missing values should be limited to zero. 2) Search for the optimal trading pairs, based on a branch and bound process, with heuristic search and pruning strategies. The experimental results show that: 1) If the number of denominated coins is not limited, we will get a more decentralized trading pair settings, which advocates the establishment of trading pairs directly between large currency pairs. 2) There is a certain room for optimization in all exchanges. The setting of inappropriate trading pairs is mainly caused by subjectively setting small coins to quote, or failing to track emerging big coins in time. 3) Too few trading pairs will lead to low coverage; too many trading pairs will need to be adjusted with markets frequently. Exchanges should consider striking an appropriate balance between them.

ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0

یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔