ٹریڈنگ حجم کی وضاحت اتار چڑھاؤ کے جھرمٹوں کے لیے محدود ہے
خلاصہ
یہ مطالعہ جانچتا ہے کہ آیا ٹریڈنگ سرگرمی کے اتار چڑھاؤ سے اسٹاک ریٹرنز میں جھرمٹ کی صورت میں آنے والا اتار چڑھاؤ اور موٹی دمیں سمجھائی جا سکتی ہیں۔ نیویارک اور لندن ایکسچینجز کے ٹک بہ ٹک مشاہدات استعمال کرکے، یہ مقررہ لین دین کی تعداد یا مقررہ مجموعی حجم والے وقفوں میں ناپے گئے قیمت کے رویے کا موازنہ کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اتار چڑھاؤ کے جھرمٹ مضبوط رہتے ہیں، اور ریٹرنز کی تقسیم عام وقتی وقفوں میں دیکھی گئی صورتوں جیسی رہتی ہے۔
نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ٹریڈنگ کی تکرار اور مجموعی حجم اتار چڑھاؤ میں تبدیلی کے صرف ایک چھوٹے حصے کی وضاحت کرتے ہیں اور موٹی دم والی ریٹرن تقسیم کا بنیادی ذریعہ نہیں ہیں۔ کراس سیکشنل تجزیے میں یہ بھی ملا کہ لین دین کی تکرار اور حجم سے آگے کے عوامل اتار چڑھاؤ کی طویل یادداشت پر غالب ہیں۔ مصنفین دیکھتے ہیں کہ ان کے نتائج پہلے کے مطالعات سے کیوں مختلف ہیں۔ شواہد زیرِ تجزیہ ایکسچینجز اور ڈیٹا تک محدود ہیں؛ بیان یہ نہیں بتاتا کہ باقی اتار چڑھاؤ کے پیٹرن کن دوسرے عوامل سے پیدا ہوتے ہیں۔
اہم خیالات
- زیرِ مطالعہ ڈیٹا میں ٹریڈنگ کی تکرار اتار چڑھاؤ کی تبدیلیوں کے صرف چھوٹے حصے کی وضاحت کرتی ہے۔
- قیمت کی تبدیلیوں کو مقررہ لین دین کی تعداد والے وقفوں میں ناپنے پر بھی اتار چڑھاؤ کے جھرمٹ برقرار رہتے ہیں۔
- ٹریڈ شدہ مجموعی حجم مقرر کرنے سے بھی اتار چڑھاؤ کے مضبوط جھرمٹ ختم نہیں ہوتے۔
- تکرار یا حجم کے لحاظ سے مشروط ریٹرنز کی تقسیم اصل وقت کے وقفوں میں دیکھی گئی تقسیم جیسی رہتی ہے۔
- کراس سیکشنل تجزیے میں تکرار اور حجم سے آگے کے عوامل اتار چڑھاؤ کی طویل یادداشت پر غالب ہیں۔
ٹیگز
مکمل متن
# There's more to volatility than volume # There's more to volatility than volume It is widely believed that fluctuations in transaction volume, as reflected in the number of transactions and to a lesser extent their size, are the main cause of clustered volatility. Under this view bursts of rapid or slow price diffusion reflect bursts of frequent or less frequent trading, which cause both clustered volatility and heavy tails in price returns. We investigate this hypothesis using tick by tick data from the New York and London Stock Exchanges and show that only a small fraction of volatility fluctuations are explained in this manner. Clustered volatility is still very strong even if price changes are recorded on intervals in which the total transaction volume or number of transactions is held constant. In addition the distribution of price returns conditioned on volume or transaction frequency being held constant is similar to that in real time, making it clear that neither of these are the principal cause of heavy tails in price returns. We analyze recent results of Ane and Geman (2000) and Gabaix et al. (2003), and discuss the reasons why their conclusions differ from ours. Based on a cross-sectional analysis we show that the long-memory of volatility is dominated by factors other than transaction frequency or total trading volume.
ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0
یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔