مواد پر جائیں
لائبریری کی تمام دستاویزات

کثیر متغیری تجزیے سے مارکیٹ کے غیر تصادفی مواد کی شناخت

مضمون arXiv papers · مصنف: Laurent Schoeffel

خلاصہ

دستاویز کا استدلال ہے کہ روایتی ٹائم سیریز تجزیے میں مالی منافع تقریباً تصادفی دکھائی دے سکتے ہیں، جبکہ ان میں جدید کثیر متغیری شماریات سے قابلِ شناخت نمونے پھر بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ نیوکلیئر فزکس میں استعمال ہونے والے طریقوں سے متاثر ایک تجزیہ بیان کرتی ہے، جسے Euro فیوچرز کی زیادہ فریکوئنسی والی حرکات پر لاگو کیا گیا۔ شناخت کیا گیا جزو اتار چڑھاؤ کی حدود کے ساتھ بدلنے والا ٹرینڈ فالو کرنے کا رویہ ہے، اور اس کام میں متعلقہ حالات کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ٹریڈنگ سسٹم استعمال کیا گیا ہے۔

یہ جانچنے کے لیے کہ آیا یہ نمونہ ایک کنٹریکٹ سے آگے بھی جاتا ہے، یہی طریقۂ کار DAX اور کوکو فیوچرز پر لاگو کیا گیا، جنہیں Euro فیوچر سے بڑی حد تک غیر متعلق بیان کیا گیا ہے۔ ان مثالوں میں ملتے جلتے نتائج کو اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا ہے کہ یہ نظام دس سال کے عرصے میں مارکیٹ کے رویے کی بار بار سامنے آنے والی خصوصیات کو پکڑتا ہے۔ مصنفین واضح کرتے ہیں کہ یہ مثالیں عمومی اطلاق ثابت نہیں کرتیں۔ اقتباس میں تفصیلی شماریاتی ٹیسٹ، ٹریڈنگ لاگت یا رسک ایڈجسٹڈ کارکردگی کے اعداد نہیں ہیں، اس لیے غیر تصادفی مواد کے دعوے کو آفاقی یا ثابت شدہ ٹریڈنگ برتری کے بجائے نمونے سے مخصوص نتیجہ سمجھنا چاہیے۔

اہم خیالات

  • روایتی ٹائم سیریز طریقے رینڈم واک کے رویے سے معمولی انحرافات کی شناخت میں ناکام ہو سکتے ہیں۔
  • تجزیے میں زیادہ فریکوئنسی والے فیوچرز ڈیٹا کے مطالعے کے لیے کثیر متغیری شماریاتی طریقے استعمال ہوتے ہیں۔
  • Euro فیوچرز میں اتار چڑھاؤ کی حدود سے وابستہ ٹرینڈ فالو کرنے والا جزو شناخت کیا گیا ہے۔
  • اسی ٹریڈنگ سسٹم کے اجزا سے DAX اور کوکو فیوچرز کے لیے ملتے جلتے نتائج رپورٹ کیے گئے ہیں۔
  • مثالیں دس سال کا عرصہ محیط ہیں، مگر دستاویز خبردار کرتی ہے کہ یہ عمومی اطلاق ثابت نہیں کرتیں۔

ٹیگز

مکمل متن
# About the non-random Content of Financial Markets


# About the non-random Content of Financial Markets









For the pedestrian observer, financial markets look completely random with erratic and uncontrollable behavior. To a large extend, this is correct. At first approximation the difference between real price changes and the random walk model is too small to be detected using traditional time series analysis. However, we show in the following that this difference between real financial time series and random walks, as small as it is, is detectable using modern statistical multivariate analysis, with several triggers encoded in trading systems. This kind of analysis are based on methods widely used in nuclear physics, with large samples of data and advanced statistical inference. Considering the movements of the Euro future contract at high frequency, we show that a part of the non-random content of this series can be inferred, namely the trend-following content depending on volatility ranges. Of course, this is not a general proof of statistical inference, as we focus on one particular example and the generality of the process can not be claimed. Therefore, we produce other examples on a completely different markets, largely uncorrelated to the Euro future, namely the DAX and Cacao future contracts. The same procedure is followed using a trading system, based on the same ingredients. We show that similar results can be obtained and we conclude that this is an evidence that some invariants, as encoded in our system, have been identified. They provide a kind of quantification of the non-random content of the financial markets explored over a 10 years period of time.

ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0

یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔