نظریۂ امکان پر مبنی ٹریڈنگ رویہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو کیسے شکل دے سکتا ہے
خلاصہ
یہ مقالہ ایک خرد معاشی ماڈل پیش کرتا ہے جس میں مارکیٹ کے شرکاء نظریۂ امکان کے تحت فیصلہ کرنے والے عاملوں کے طور پر فائدے اور نقصان پر ردعمل دیتے ہیں۔ قیمتیں رسد اور طلب کے عارضی توازن سے بنتی ہیں، اس لیے عاملوں کے فیصلے قیمتوں کے عمل پر واپس اثرانداز ہوتے ہیں۔ ماڈل ٹریڈنگ کے رویے اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے درمیان اس باہمی اثر کو مربوط کرتا ہے۔
مصنفین کے مطابق یہ طریقۂ کار حقیقی منڈیوں میں دیکھی گئی مضمر وولیٹیلیٹی کی اسکیو اور اسمائل کی وضاحت کر سکتا ہے۔ دستاویز کیلِبریشن یا تجرباتی ٹیسٹ کی تفصیلات کے بجائے ایک نظریاتی وضاحت پیش کرتی ہے۔ اس میں اثاثوں یا ڈیٹا کی نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ بتایا گیا ہے کہ ماڈل کے نتائج کو ٹریڈنگ اسٹریٹیجی میں بدلا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اہم خیالات
- مارکیٹ کی قیمتوں کو رسد اور طلب کے عارضی توازن سے بنتے ہوئے ماڈل کیا گیا ہے۔
- نظریۂ امکان کے تحت فیصلہ کرنے والے عامل فائدے اور نقصان کے جواب میں اپنے اقدامات بدلتے ہیں۔
- ایجنٹس کا ٹریڈنگ رویہ قیمتوں کے عمل اور اس کے اتار چڑھاؤ پر واپس اثرانداز ہوتا ہے۔
- مجوزہ باہمی اثر کے طریقۂ کار سے مضمر وولیٹیلیٹی کی اسکیو اور اسمائل کی وضاحت کی جاتی ہے۔
ٹیگز
مکمل متن
# Prospect Agents and the Feedback Effect on Price Fluctuations # Prospect Agents and the Feedback Effect on Price Fluctuations A microeconomic approach is proposed to derive the fluctuations of risky asset price, where the market participants are modeled as prospect trading agents. As asset price is generated by the temporary equilibrium between demand and supply, the agents' trading behaviors can affect the price process in turn, which is called the feedback effect. The prospect agents make actions based on their reactions to gains and losses, and as a consequence of the feedback effect, a relationship between the agents' trading behavior and the price fluctuations is constructed, which explains the implied volatility skew and smile observed in actual market.
ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0
یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔