GARCH اسٹاک کے اتار چڑھاؤ کے ماڈلز میں تجارتی سرگرمی بطور معلوماتی اشاریہ
خلاصہ
یہ مطالعہ دیکھتا ہے کہ آیا روزانہ تجارتی حجم اور لین دین کی تعداد اسٹاک کے اتار چڑھاؤ کی وضاحت میں مدد دیتی ہے، اور اس کے لیے ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج کا ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ تقسیمات کے آمیزے کے مفروضے کے مطابق، دونوں پیمانوں کو اس شرح کے اشاریوں کے طور پر لیا گیا ہے جس پر مارکیٹ سے متعلق معلومات پہنچتی ہیں۔ اتار چڑھاؤ سے ان کے تعلق کا جائزہ جنرلائزڈ آٹوریگریسیو کنڈیشنل ہیٹروسکیڈیسٹی ماڈلز سے لیا جاتا ہے، جو مشروط تغیر میں تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔
نتائج کے مطابق، حجم یا لین دین کی تعداد شامل کرنے سے ہمیشہ GARCH اثرات ختم نہیں ہوتے۔ مصنفین اسے اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ سرگرمی کے یہ پیمانے معلومات کی آمد کی شرح کو پوری طرح نہیں ناپتے۔ نتیجہ خبردار کرتا ہے کہ صرف زیادہ تجارت کو مسلسل اتار چڑھاؤ کی وجہ نہ سمجھا جائے۔ فراہم کردہ بیان میں نمونے کی مدت، اسٹاکس، ماڈل کی اقسام یا ان صورتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی جن میں تسلسل برقرار رہا؛ اس لیے اس خلاصے سے نتیجے کی قوت اور عمومیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
اہم خیالات
- مطالعہ تجارتی حجم اور لین دین کی تعداد کو معلومات کی آمد کے اشاریوں کے طور پر آزماتا ہے۔
- یہ روزانہ ٹوکیو اسٹاک ایکسچینج کا ڈیٹا اور GARCH ماڈلز استعمال کرکے اتار چڑھاؤ کے تسلسل کا جائزہ لیتا ہے۔
- دونوں میں سے کوئی بھی تجارتی پیمانہ شامل کرنے سے ہمیشہ GARCH اثرات ختم نہیں ہوتے۔
- بیان کردہ نتیجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حجم اور لین دین کی تعداد معلومات کے بہاؤ کے نامکمل پیمانے ہیں۔
- دستاویز میں طریقۂ کار کی اتنی تفصیل نہیں کہ نتیجے کے دائرۂ کار کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ٹیگز
مکمل متن
# The relationship between trading volumes, number of transactions, and stock volatility in GARCH models # The relationship between trading volumes, number of transactions, and stock volatility in GARCH models We examine the relationship between trading volumes, number of transactions, and volatility using daily stock data of the Tokyo Stock Exchange. Following the mixture of distributions hypothesis, we use trading volumes and the number of transactions as proxy for the rate of information arrivals affecting stock volatility. The impact of trading volumes or number of transactions on volatility is measured using the generalized autoregressive conditional heteroscedasticity (GARCH) model. We find that the GARCH effects, that is, persistence of volatility, is not always removed by adding trading volumes or number of transactions, indicating that trading volumes and number of transactions do not adequately represent the rate of information arrivals.
ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0
یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔