متعلقہ سیکیورٹیز میں خودکار لیکویڈیٹی کی فراہمی
خلاصہ
یہ دستاویز باخبر اور بے خبر ٹریڈنگ کے Glosten–Milgrom ماڈل کو تازہ کرتی ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ خودکار لیکویڈیٹی فراہم کرنے والے مارکیٹوں کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ نظرثانی شدہ فریم ورک میں متعدد سیکیورٹیز اور ایک خودکار مارکیٹ میکر شامل ہے، جو آنے والے آرڈرز کی قیمتیں طے کرنے کے لیے ان کے باہمی تعلقات استعمال کرتا ہے۔ بنیادی تصور یہ ہے کہ سیکیورٹیز کے درمیان معلومات خودکار نظاموں کو ایسے روایتی مارکیٹ میکرز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر نرخ دینے میں مدد دے سکتی ہیں جو یہ طریقہ استعمال نہیں کرتے۔
ماڈل کے مطابق خودکار شریک زیادہ تر آرڈرز سنبھالتا اور زیادہ مؤثر قیمتیں طے کرتا ہے۔ یہ باخبر ٹریڈرز کے لیے کم اور بے خبر ٹریڈرز کے لیے زیادہ لین دین کے اخراجات کی پیش گوئی بھی کرتا ہے۔ بڑھتے ہوئے ٹریڈنگ حجم اور اسٹاک کے کم لین دین اخراجات کے ساتھ یہ نتائج US کی مارکیٹوں میں اعلیٰ تعدد والی ٹریڈنگ کے نمایاں ہونے کی ممکنہ وضاحت کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔ دستاویز ماڈل کے نتائج کا خلاصہ کرتی ہے، مگر ان کے دائرۂ کار کا جائزہ لینے کے لیے تجرباتی تفصیلات، مفروضے یا آزمائشیں فراہم نہیں کرتی۔ اس لیے نتائج کو مجوزہ ماڈل کے مضمرات سمجھنا چاہیے، اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر صورت میں خودکار لیکویڈیٹی کی فراہمی نے روایتی مارکیٹ میکرز کی جگہ لے لی ہے۔
اہم خیالات
- ماڈل متعدد باہم متعلقہ سیکیورٹیز شامل کرکے Glosten–Milgrom کو وسعت دیتا ہے۔
- خودکار مارکیٹ میکر آرڈر فلو کی قیمت طے کرنے کے لیے سیکیورٹیز کے باہمی تعلقات استعمال کرتا ہے۔
- ماڈل کی پیش گوئی ہے کہ خودکار شریک زیادہ تر آرڈرز سنبھالتا اور زیادہ مؤثر قیمتیں طے کرتا ہے۔
- ماڈل میں باخبر ٹریڈرز کے لین دین اخراجات گھٹتے ہیں، جبکہ بے خبر ٹریڈرز کے اخراجات بڑھتے ہیں۔
- نتائج کو اعلیٰ تعدد والی ٹریڈنگ کے بڑھتے ہوئے نمایاں کردار اور US اسٹاک مارکیٹ کے بدلتے اخراجات کی ممکنہ وضاحت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ٹیگز
مکمل متن
# Automated Liquidity Provision and the Demise of Traditional Market Making # Automated Liquidity Provision and the Demise of Traditional Market Making Traditional market makers are losing their importance as automated systems have largely assumed the role of liquidity provision in markets. We update the model of Glosten and Milgrom (1985) to analyze this new world: we add multiple securities and introduce an automated market maker who uses the relationships between securities to price order flow. This new automated participant transacts the majority of orders, sets prices that are more efficient, and increases informed and decreases uninformed traders' transaction costs. These results can explain the recent dominance of high frequency trading in US markets and the corresponding increase in trading volume and decrease in transaction costs for US stocks.
ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0
یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔