ٹریڈنگ اسٹریٹیجیز مارکیٹ کے چکر اور کارکردگی کو کیسے تشکیل دیتی ہیں
خلاصہ
یہ مقالہ مارکیٹ آرڈرز پر مبنی قیمت سازی کا ایک سادہ غیر توازنی ماڈل استعمال کرکے دیکھتا ہے کہ ٹریڈنگ کے انداز مارکیٹ کی حرکیات پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کا تجزیاتی فریم ورک دوسرے درجے کا ارتعاشی قیمت رویہ پیدا کرتا ہے۔ صرف قدر پر مبنی سرمایہ کاری اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ قیمتیں تخمینہ شدہ قدروں کی پیروی کریں گی، جبکہ رجحان کی پیروی طویل مدتی ارتعاشات کے ساتھ مختصر مدتی رجحانات پیدا کر سکتی ہے۔ دونوں کو ملانے سے عروج و زوال کے چکر، زیادہ اور مسلسل اتار چڑھاؤ اور بھاری دُم والی قیمت تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں، چاہے خطی نمونے کمزور ہوں۔
مقالہ مارکیٹ کے ارتقا کو رقوم کے بہاؤ اور دوبارہ لگائے گئے منافع سے بھی جوڑتا ہے۔ یہ مجموعی جوڑی وار باہمی تعلقات کے ذریعے منافع کی تحلیل کرتا اور آبادیاتی حیاتیات کے ماڈل سے مشابہ سرمایہ مختص کرنے کا ماڈل اخذ کرتا ہے۔ بازاری موثریت کے تجزیے میں رجحان کی پیروی کے نمونے، قدر پر مبنی سرمایہ کاری کے نمونوں کے مقابلے میں اصلاح کی زیادہ مزاحمت کرتے ہیں، اور منافع کی تلاش بازاری موثریت کی جانب پیش رفت سست کرتی ہے۔ مقدار کے تقریبی پیمانے کے اندازوں کی بنیاد پر، بازاری موثریت کا تجویز کردہ زمانی پیمانہ برسوں سے دہائیوں تک ہے۔ یہ نظریاتی ماڈل کے مضمرات ہیں؛ اقتباس مخصوص مارکیٹوں پر اطلاق کے لیے تجرباتی ٹیسٹ یا پیرامیٹر کی شرائط فراہم نہیں کرتا۔
اہم خیالات
- مارکیٹ آرڈر پر مبنی قیمت سازی کا ماڈل کئی ادوار کی مارکیٹ حرکیات کا تجزیاتی مطالعہ ممکن بناتا ہے۔
- قدر پر مبنی سرمایہ کاری لازماً قیمتوں کو تخمینہ شدہ قدروں کے مطابق نہیں رکھتی۔
- رجحان کی پیروی مختصر مدتی رجحانات اور طویل مدتی ارتعاشات پیدا کر سکتی ہے۔
- رجحان کی پیروی اور قدر پر مبنی سرمایہ کاری مل کر مسلسل اتار چڑھاؤ اور عروج و زوال کا رویہ پیدا کر سکتے ہیں۔
- دوبارہ لگائے گئے ٹریڈنگ منافع سے آبادیاتی ماڈلز سے مشابہ سرمایہ مختص کرنے کی حرکیات بنتی ہیں۔
- رجحان کی پیروی کے نمونے زیادہ دیر برقرار رہ سکتے ہیں اور قدر پر مبنی سرمایہ کاری کے نمونوں کے مقابلے میں بازاری موثریت کی رفتار سست کر سکتے ہیں۔
ٹیگز
مکمل متن
# Market force, ecology and evolution # Market force, ecology and evolution Markets have internal dynamics leading to excess volatility and other phenomena that are difficult to explain using rational expectations models. This paper studies these using a nonequilibrium price formation rule, developed in the context of trading with market orders. Because this is so much simpler than a standard inter-temporal equilibrium model, it is possible to study multi-period markets analytically. There price dynamics have second order oscillatory terms. Value investing does not necessarily cause prices to track values. Trend following causes short term trends in prices, but also causes longer-term oscillations. When value investing and trend following are combined, even though there is little linear structure, there can be boom-bust cycles,excess and temporally correlated volatility, and fat tails in price fluctuations. The long term evolution of markets can be studied in terms of flows of money. Profits can be decomposed in terms of aggregate pairwise correlations. Under reinvestment of profits this leads to a capital allocation model that is equivalent to a standard model in population biology. An investigation of market efficiency shows that patterns created by trend followers are more resistant to efficiency than those created by value investors, and that profit maximizing behavior slows the progression to efficiency. Order of magnitude estimates suggest that the timescale for efficiency is years to decades.
ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0
یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔