خود حوالہ جاتی تجارتی فیڈ بیک، مارکیٹ کے رواج اور حد سے زیادہ ردِعمل
خلاصہ
یہ مقالہ ماڈل کرتا ہے کہ ٹریڈرز ماضی کے ڈیٹا سے مارکیٹ کی معلومات اور قیمتوں کے درمیان باہمی تعلقات کا تخمینہ لگا کر، پھر ان تعلقات سے تجارت کی رہنمائی حاصل کرکے فیڈ بیک کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔ جب کافی ایجنٹس اس تخمینہ شدہ تعلق کے مطابق عمل کرتے ہیں تو ان کے آرڈرز قیمتیں بدل دیتے ہیں اور یوں اسی تعلق کو تبدیل کر دیتے ہیں جس پر وہ پہلے انحصار کر رہے تھے۔ اس سے پیدا ہونے والا فیڈ بیک بصورتِ دیگر مؤثر رویے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
ماڈل ایک ایسی حد کی پیش گوئی کرتا ہے جس کے بعد غیر صفر باہمی تعلقات خود بخود پیدا ہوتے ہیں اور مارکیٹیں پائیدار حالتوں، یا رواجوں، کے درمیان بدلتی ہیں۔ جب قیمتوں کی تاریخ معلومات کا ذریعہ ہو تو یہ حالتیں رجحان کے ساتھ چلنے اور اس کے برخلاف، یعنی اوسط کی طرف لوٹنے والے رویے سے مطابقت رکھتی ہیں۔ مصنفین رواج کے مرحلے کو حد سے زیادہ ردِعمل اور ممکنہ طور پر نمایاں اضافی اتار چڑھاؤ سے جوڑتے ہیں، اور تجرباتی شواہد کی اطلاع دیتے ہیں کہ ایسے نظام حقیقی مارکیٹوں میں دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ فراہم کردہ بیان میں ان شواہد کے ڈیٹا سیٹس یا تخمینے کے طریقے کی وضاحت نہیں، اس لیے یہ طے نہیں ہوتا کہ ٹریڈرز ان حالتوں کی کتنی قابلِ اعتماد شناخت یا ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اہم خیالات
- تاریخی تخمینوں پر مبنی باہمی تعلقات کے مطابق عمل کرنے والے ٹریڈرز وہی قیمتیں بدل سکتے ہیں جن سے ان تعلقات کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
- کافی مضبوط فیڈ بیک مؤثر رویے سے پائیدار مارکیٹ رواجوں کی طرف تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔
- جب قیمت خود اشارہ ہو تو رواج رجحان کے ساتھ چلنے یا اس کے برخلاف صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
- ماڈل ان نظاموں کو حد سے زیادہ ردِعمل اور اضافی اتار چڑھاؤ سے جوڑتا ہے۔
- مصنفین حقیقی مارکیٹوں میں دیرپا رواجوں کے شواہد پیش کرتے ہیں، مگر خلاصے میں ڈیٹا یا شناخت کی تفصیلات نہیں۔
ٹیگز
مکمل متن
# Self-referential behaviour, overreaction and conventions in financial markets # Self-referential behaviour, overreaction and conventions in financial markets We study a generic model for self-referential behaviour in financial markets, where agents attempt to use some (possibly fictitious) causal correlations between a certain quantitative information and the price itself. This correlation is estimated using the past history itself, and is used by a fraction of agents to devise active trading strategies. The impact of these strategies on the price modify the observed correlations. A potentially unstable feedback loop appears and destabilizes the market from an efficient behaviour. For large enough feedbacks, we find a `phase transition' beyond which non trivial correlations spontaneously set in and where the market switches between two long lived states, that we call conventions. This mechanism leads to overreaction and excess volatility, which may be considerable in the convention phase. A particularly relevant case is when the source of information is the price itself. The two conventions then correspond then to either a trend following regime or to a contrarian (mean reverting) regime. We provide some empirical evidence for the existence of these conventions in real markets, that can last for several decades.
ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے مکمل متن دکھایا گیا ہے، ماخذ کے لائسنس کے تحت۔ لائسنس: abstract CC0
یہ خلاصہ اصل ماخذ سے Stratmill کے تحقیقی ایجنٹ نے لکھا ہے؛ یہ ماخذ کی نقل نہیں۔